پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں اور شہری کی درخواستوں پربڑا فیصلہ

پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں اور شہری کی درخواستوں پربڑا فیصلہ

پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان میں موجود دو افغان صحافیوں اور ایک شہری کی عارضی قیام کے لیے دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے معاملے کو حتمی فیصلے کے لیے وزارتِ داخلہ کو ارسال کر دیا ہےجبکہ دیگر 5 افراد کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق یہ حکم جسٹس وقار احمد اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل دو رکنی بینچ نے افغان صحافیوں، افغان سپریم کورٹ کے سابق جج اور ملی اردو کے دو جرنیلوں سمیت 8 افراد کی درخواستوں پر سماعت کے بعد جاری کیا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار صحافیوں سید انعام اللہ صالحی اور سید منیر احمد حدف کی جانب سے وکیل شفقت علی شاہ، جبکہ ملی اردو کے جرنیلوں کی نمائندگی وکیل ہاشم خان مینگل نے کی۔

درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکلین کو افغانستان میں جان کا شدید خطرہ ہے اور طالبان نے ان کے گھر بھی مسمار کر دیے ہیں۔

انہوں نے موقف اپنایا کہ درخواست گزاروں نے مختلف ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیںلہٰذا جب تک انہیں کسی تیسرے ملک منتقل نہیں کیا جاتا تب تک انہیں پاکستان میں عارضی قیام کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ان افراد کو کسی ملک سے سفارشی خطوط (لیٹر آف ریکمنڈیشن) موصول ہوئے ہیں؟ اس پر وکیل نے بتایا کہ صرف دو صحافیوں اور امریکی ملٹری کے ساتھ کام کرنے والے محمد نوید عمری کے پاس ریکمنڈیشن لیٹرز موجود ہیں جبکہ دیگر افراد کو ابھی خطوط جاری نہیں ہوئے۔

دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے دو افغان صحافیوں اور محمد نوید عمری کا کیس 2 ماہ کے اندر طے کرنے کی ہدایت کے ساتھ وزارتِ داخلہ کو بھیج دیا جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ فیصلہ ہونے تک ان تینوں افراد کو گرفتار یا ڈی پورٹ نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں : حج پالیسی میں اہم تبدیلی، 16 بینکوں کی جگہ صرف ایک درخواستیں موصول کرے گا

علاوہ ازیں بینچ نے دیگر 5 درخواست گزاروں کے مقدمات پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

Scroll to Top