پاکستان نے مشکل کی اس گھڑی میں افغان عوام کی مدد کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے طورخم بارڈر کے راستے افغانستان کے لیے امدادی سامان کی ترسیل میں بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، امدادی کھیپ میں خوراک، ضروری اشیائے خورونوش اور دیگر امدادی سامان شامل ہے، جو افغانستان کے ضرورت مند اور مستحق خاندانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
یہ تمام امدادی سامان مختلف بین الاقوامی اداروں اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے،حکام کا کہنا ہے کہ 724 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کا قافلہ طورخم بارڈر عبور کر کے افغانستان میں داخل ہو چکا ہے، جہاں اسے ضرورت مند خاندانوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راستوں پر طویل تعطل اور سرحدی کشیدگی کے باوجود، پاکستانی حکام نے انسانی ہمدردی کے تحت طورخم کوریڈور کو امدادی سامان کی نقل و حرکت کے لیے کھلا رکھا ہے اور ترجیحی بنیادوں پر اس کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انسانی امداد کی ضروریات اب بھی بہت زیادہ ہیں، اور بین الاقوامی ادارے مسلسل خوراک و دیگر ضروریات زندگی فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ اور ہیومنٹیرین کوآرڈینیٹر ہامش یانگ نے افغانستان کے لیے امدادی سامان کی فراہمی میں تعاون کرنے پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔





