وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا فیصلہ حکومت اور ہائبرڈ نظام مشاورت سے کریں گے، نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس سے متعلق میری ذاتی رائے یہ ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط کرنے سے بہت سے مسائل سے نجات مل سکتی ہے، انفرااسٹرکچر کی بحالی کیلیے پیسہ تحصیلوں اور اضلاع میں جانا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ 27 ستمبر کو جیسا پی ٹی آئی کا احتجاج ہوگا ویسا ہی جواب دیا جائے گا اگر تحریک انصاف پرامن احتجاج کرے گی تو کوئی ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا، حکومتی رویے میں تبدیلی نہ آنے کی ذمہ دار پی ٹی آئی خود ہے۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا فیصلہ صرف حکومت نے نہیں بلکہ ہائبرڈ نظام نے مل کر مشاورت سے کرنا ہے، بانی سے ملاقات کا فیصلہ حکومت اور اتحادیوں کا اجتماعی ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کر رہے ہیں، اس پارٹی اسٹرکچر ہی کرپشن پر بنا ہوا ہے، پارٹی کے اندر اتنے پھڈے ہیں کہ اراکین ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑ رہے ہیں ۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اصل حکمرانی تو بیورو کریسی نے کی ہے ان کا کوئی احتساب ہی نہیں ہوا، فوج میں احتساب ہوا اس کے علاوہ سیاستدانوں کا بہت مرتبہ احتساب ہوچکا ہے، یہ غلط تاثر ہے کہ بیوروکریسی صرف ہمارے دور حکومت میں مضبوط ہوتی ہے۔
ان کا مزید کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس سے متعلق میری ذاتی رائے یہ ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط کرنے سے بہت سے مسائل سے نجات مل سکتی ہے، انفرااسٹرکچر کی بحالی کیلیے پیسہ تحصیلوں اور اضلاع میں جانا چاہیے۔





