صوابی: مردان سے تعلق رکھنے والے پولٹری کے معروف تاجر شکیل ماندوری اور ان کے دو نوجوان بیٹوں سمیت دریائے سندھ میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے پانچ افراد کی تلاش پانچویں روز بھی جاری ہے، تاہم تاحال کسی مزید لاپتہ شخص کا سراغ نہیں مل سکا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق 14 اگست کو ہنڈ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانچ افراد ڈوب گئے تھے، جن میں 45 سالہ شکیل ماندوری، ان کے 20 سالہ بیٹے شرجیل اور 16 سالہ بیٹے خضر کا تعلق مردان سے ہے، جبکہ 26 سالہ اویس چارسدہ اور 14 سالہ مشال یارحسین سے تعلق رکھتے ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 صوابی کی غوطہ خور ٹیم نے لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا، جو پانچویں روز بھی مسلسل جاری ہے۔
ریسکیو 1122 صوابی، مردان، نوشہرہ اور چارسدہ کی ٹیمیں مشترکہ طور پر سرچ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ غوطہ خور ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر لاپتہ افراد کی تلاش کر رہی ہیں اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : دریائے سندھ میں ڈوبنے والے تاجر اور دو بیٹوں کی تلاش چوتھے روز بھی جاری
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کے باوجود تاحال لاپتہ افراد میں سے کسی کا سراغ نہیں مل سکا۔
دوسری جانب شکیل ماندوری، ان کے دونوں بیٹوں اور دیگر دو افراد کے تاحال لاپتہ ہونے کے باعث اہلخانہ شدید پریشانی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے تلاش کا عمل مسلسل جاری رکھا جا رہا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے غوطہ خور ٹیمیں دریائے سندھ کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کر رہی ہیں، جبکہ دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے تلاش کا دائرہ بھی جاری رکھا گیا ہے۔





