وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے دفتر کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے گوگل کے نائب صدر ولسن وائٹ سے ملاقات کی اور ملک میں ٹیکنالوجی کمپنی کے دفتر کا باضابطہ افتتاح کیا، اس موقع پر امریکی ناظم الامور نٹالی اے بیکر بھی موجود تھیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے گوگل وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ گوگل کی یہ آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان گورننس کے مختلف شعبوں میں ایک اہم ڈیجیٹل تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے جو ملک کی قسمت بدل سکتی ہےاس ضمن میں کافی کام کیا گیا ہے لیکن ہدف کے حصول کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
ولسن وائٹ نے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے اپنے پہلے دورے اور مقامی دفتر کے افتتاح کو ایک بڑا سنگ میل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ گوگل ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور مقامی دفتر کا قیام ایک انتہائی خاص لمحہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا آئی ٹی برآمدی حب بنانے کا وزیر اعظم کا عزم گوگل کے اہداف سے مطابقت رکھتا ہے، گزشتہ 10 برسوں میں گوگل نے مقامی پاکستانی کاروباروں اور گھرانوں کے لیے 3.9 ٹریلین روپے سے زائد کی معاشی سرگرمیاں پیدا کی ہیں جس سے 9 لاکھ 60 ہزار سے زائد ملازمتیں میسر آئیں اور یہ تو ابھی صرف شروعات ہے۔
ولسن وائٹ نے کہا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کے عوام میں مناسب سرمایہ کاری نہ کی جائے، گوگل نے کیریئر سرٹیفکیٹس اور اسکولوں کے ساتھ مل کر ایک ملین سے زائد پاکستانیوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھین : عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی حکم: وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کرنے کا اعلان
اس کے علاوہ، ولسن وائٹ نے یہ اعلان بھی کیا کہ رواں ہفتے کے آخر میں گوگل کی جانب سے تمام پاکستانی طلبہ کے لیے ‘گوگل جیمنائی کی سبسکرپشنز ایک سال کے لیے بالکل مفت فراہم کرنے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔





