بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، طلال چوھدری و عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت ہمیشہ یہ مؤقف رکھتی آئی ہے کہ صحت کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، ہر قیدی کو علاج معالجے اور صحت کی ضروری سہولیات فراہم کرنا اس کا حق ہے۔

وزیر اطلاعات نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بھی صحت کی تمام ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور ان کے علاج کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ماضی میں اپوزیشن کو بیماری کے معاملے پر طعنے دیتے رہے اور کہتے تھے کہ لوگ جیل جاتے ہیں تو بیمار ہوجاتے ہیں، تاہم حکومت کا وطیرہ نہیں کہ کسی کی صحت پر سیاست کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان بارے سپریم کورٹ کا حکم اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا کاواویلا: معمول کی طبی کارروائی کوتاریخی فتح بنانے کی ناکام کوشش

اس موقع پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ دھمکیوں، ڈکٹیٹ کرنے، سڑکیں بلاک کرنے یا حملوں کے ذریعے ملاقات نہیں ہوگی۔ حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ جیل مینوئل کے تحت عدالت ملاقات کا حکم دے سکتی ہے اور ہر قیدی کو علاج اور رہنے کی مناسب سہولت ملنی چاہیے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت نے کسی میڈیکل رپورٹ پر بحث کی ہے نہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مخالف سیاسی رہنما دن رات حکومتی قائدین کی رپورٹس لہراتے رہے، حتیٰ کہ بیگم کلثوم نواز کی عیادت کیلئے بھی بغیر اجازت اسپتال میں داخل ہوئے تھے۔

وزیر مملکت نے عدالتی فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی عدالتیں ہیں جنہوں نے 26ویں اور 27ویں ترمیم کا حلف اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ جوڈیشل کونسل کی میٹنگ کا بائیکاٹ کرکے کہتے رہے کہ عدالت اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتے، وہی اب اسی پارلیمنٹ کی ترامیم سے بننے والی عدالت کے فیصلے کو روشنی کی کرن قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی ہسپتال منتقلی ، وفاقی حکومت نے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کر دی

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ جج صاحبان کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے فیصلے کو این آر او سے جوڑا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے ڈاکٹرز بھیجے، جبکہ نواز شریف کی رپورٹس بنانے والے ڈاکٹرز کو بھی اٹھایا گیا تھا۔ بیماری کو کمزوری سمجھ کر اس پر سیاست کرنا ان کی قیادت اور کارکنوں کا ظرف نہیں۔

طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے سیاسی کردار کو دیکھتے ہوئے عدالت نے کہا کہ سیاست نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق استعفوں، اسمبلیاں توڑنے، 9 مئی اور 26 نومبر کے بعد اب صرف ’’ہمدردی کارڈ‘‘ رہ گیا ہے۔

Scroll to Top