بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کے عدالتی حکم کے بعد پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی جانب سے ایک بار پھر معمول کے قانون اور طبی پروسیجر کو غیر معمولی سیاسی کامیابی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں عمران خان کو دو روز کے اندر اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ کے قیام کی ہدایت جاری کی ہے۔
عدالتی حکم نامے میں صاف واضح کیا گیا ہے کہ علاج کے تمام تر اخراجات قیدی خود برداشت کرے گا جبکہ اگلے حکم تک ہیلتھ رپورٹس کو عام کرنے یا اس پر سیاست کرنے پر مکمل پابندی رہے گی۔
سیاسی ماہرین اور ناقدین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ حکم محض ایک انتظامی اور طبی کارروائی ہے جس کا مقصد قیدی کی صحت سے جڑے معاملات کی جانچ کرنا ہے لیکن پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بریگیڈ حسبِ معمول اسے اپنی کسی “بڑی فتح” یا “انقلابی حکم” سے تعبیر کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلہ میں نہ تو بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا کوئی پروانہ موجود ہے اور نہ ہی انہیں کوئی خصوصی ریلیف دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان نے سانحہ 9 مئی پر معافی مانگی لی،سینئرصحافی اظہر جاوید کا دعوی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہی پرانا طرزِ عمل رہا ہے کہ عدالتی آبزرویشنز اور معمول کے اقدامات کو “تاریخی ریلیف” قرار دے کر پہلے خود ہی شور مچایا جاتا ہے اور پھر اپنے ہی بنائے ہوئے بیانیے پر جشن منایا جاتا ہے۔ جبکہ سچائی یہی ہے کہ عدالت نے محض معمول کا میڈیکل پروسیجر طے کیا ہے جسے پروپیگنڈا فیکٹری کے ذریعے نئے سیاسی ڈرامے میں ڈھالنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔





