پشاور: پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں ایل پی جی کے ممکنہ بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں، صوبے کو ایل پی جی کی سپلائی میں تقریباً 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ موجودہ صورتحال کے باعث قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
ذرائع کے مطابق قدرتی گیس کی لوڈشیڈنگ اور قلت کے باعث پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کی خراب صورتحال اور ایل پی جی سے متعلق گاڑیوں اور سامان کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعات کے باعث سپلائی چین متاثر ہونا شروع ہوگئی ہے۔
ایل پی جی کاروبار سے وابستہ ڈیلرز کے مطابق بلوچستان میں حالیہ سکیورٹی واقعات کے بعد درآمد کنندگان اور ٹرانسپورٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث ایل پی جی کی ترسیل میں رکاوٹ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑے درآمد کنندگان بھاری نقصانات کے باعث کوئٹہ، نوشکی، دالبندین اور تفتان کے راستوں پر کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے سے ہچکچا رہے ہیں، جس سے صوبے میں ایل پی جی کی سپلائی مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی ہسپتال منتقلی ، وفاقی حکومت نے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کر دی
ذرائع کے مطابق اوگرا نے بھی ان راستوں پر اضافی سکیورٹی اقدامات کو ضروری قرار دیا ہے تاکہ سرحدی علاقوں سے ایل پی جی کی ترسیل بلا تعطل جاری رکھی جاسکے۔
دوسری جانب پاکستان میں پائپ لائن کے ذریعے فراہم کی جانے والی قدرتی گیس تقریباً 28 سے 30 فیصد شہری آبادی تک محدود ہے، جبکہ بڑی تعداد میں صارفین گھریلو ضروریات، خصوصاً کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔
ماہرین اور کاروباری حلقوں کے مطابق اگر سپلائی میں موجودہ کمی برقرار رہی اور بلوچستان کے راستوں سے ترسیل معمول پر نہ آئی تو پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں ایل پی جی کی قیمتوں اور دستیابی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔





