اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی اپیلوں پر سماعت ہوئی، عدالت نے مزید سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی۔
سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چھٹیاں کب تک ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ 6 ستمبر سے باضابطہ کام شروع کرے گی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی کی اپیلیں قابلِ سماعت نہیں ہیں۔ اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ درخواستیں ناقابلِ سماعت ہونے کا قانون میں کہاں ذکر ہے؟
وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے سزا معطلی کی درخواستوں پر دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اچانک کیس 8 ستمبر کے لیے مقرر ہوگیا ہے اور جب بھی سپریم کورٹ فیصلہ کرنے لگتی ہے، ہائیکورٹ میں کیس مقرر ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے کے خلاف حکومتی درخواست پر اعتراض، سپریم کورٹ نے واپس کردی
اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا اپنا سسٹم ہے اور مقدمات اسی کے مطابق مقرر ہوتے ہیں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سسٹم پر ہم سے کوئی رائے نہ ہی لیں تو بہتر ہے۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ابھی کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی، ایسا نہ ہو کہ سسٹم سے کیس غائب ہوجائے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ سسٹم سے کیس غائب ہوسکتا ہے، ہم نہیں، پریشان نہ ہوں، ہم یہاں موجود ہیں، بشرطِ زندگی آئندہ بھی ہوں گے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ عدالت نے سزا معطلی پر فیصلہ کرنے کا کہا ہے، عدالت درخواست خارج بھی کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی ہسپتال منتقلی ، وفاقی حکومت نے فیصلے پر سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کر دی
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت پر یا تو عدالت فیصلہ کرے گی یا درخواست گزار کیس واپس لے رہے ہوں گے۔
بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی اپیلوں پر مزید سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی۔





