صدارتی سول ایوارڈز میں خواتین کی کم نمائندگی، نامزدگی کے نظام پر سوالات

پشاور: صدارتی سول ایوارڈز 2026 میں خواتین کی نسبتاً کم نمائندگی پر سماجی کارکنوں اور خواتین کے حقوق سے وابستہ حلقوں نے سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قومی اعزازات کے لیے نامزدگی کے عمل میں خواتین کی سماجی، معاشی، قانونی اور کمیونٹی سطح پر خدمات کو زیادہ مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔

14 اگست کو صدر آصف علی زرداری نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں 355 افراد کے لیے قومی سول ایوارڈز کی منظوری دی تھی۔ اعزازات پانے والوں میں سائنس، انجینئرنگ، تعلیم، طب، فنون، ادب، کھیل، صحافت، سماجی بہبود، فلاحی خدمات اور پبلک سروس سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات شامل ہیں۔

سماجی کارکن صائمہ محبوب نے کہا کہ معاملہ صرف خواتین کی تعداد کا نہیں بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ موجودہ نامزدگی کا نظام معاشرے میں حقیقی اور دیرپا تبدیلی پیدا کرنے والی خواتین کی خدمات کو کس حد تک سامنے لاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سول ایوارڈز کے لیے بنیادی معیار کسی شخصیت کی شہرت یا عہدہ نہیں بلکہ معاشرے کے لیے اس کی خدمات اور ان کے اثرات ہونے چاہئیں۔ تعلیم، صحت، سماجی بہبود، کاروبار، خواتین کی معاشی خودمختاری، انصاف تک رسائی، قانونی معاونت اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کو بھی قومی سطح پر اعتراف ملنا چاہیے۔

صائمہ محبوب کے مطابق اگر ایک خاتون دوسری خواتین کو کاروبار شروع کرنے، روزگار حاصل کرنے یا اپنے حقوق کے حصول میں مدد فراہم کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندان، کمیونٹی اور معیشت تک پہنچتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی خواتین کو اجاگر کرنے پر زور

صائمہ محبوب نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی ان خواتین کو بھی قومی سطح پر سامنے لانے کی ضرورت ہے جو مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ان کے مطابق ایسی خواتین کی خدمات کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنا دنیا کے سامنے خیبر پختونخوا کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ حکومت کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ صوبے کی خواتین مختلف شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں، انہیں معاونت حاصل ہے اور وہ خود بھی دوسری خواتین کے لیے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی خواتین کو قومی سطح پر رول ماڈلز کے طور پر سامنے لانا دیگر خواتین کی حوصلہ افزائی کے ساتھ پاکستان کا مثبت پیغام بھی دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔

فطرت الیاس بلور کے لیے بعد از وفات اعزاز کی سفارش

خواتین کی معاشی خودمختاری کے حوالے سے صائمہ محبوب نے فطرت الیاس بلور مرحومہ کی خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کرنے کی سفارش بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ فطرت الیاس بلور نے اپنی زندگی میں خواتین کو کاروبار کی طرف لانے، انہیں معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنانے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دینے کے لیے کام کیا، تاہم انہیں زندگی میں قومی سول ایوارڈ نہیں مل سکا۔

محبوب نے مطالبہ کیا کہ ان کی خدمات کا اب بعد از وفات سول ایوارڈ کے ذریعے اعتراف کیا جائے۔ ان کے مطابق کسی شخصیت کی خدمات اس لیے کم اہم نہیں ہوجاتیں کہ اسے اپنی زندگی میں قومی اعزاز نہیں مل سکا۔

انصاف اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین بھی قابلِ غور

خواتین کو فوری انصاف کی فراہمی، قانونی حقوق، وراثتی معاملات اور کام کی جگہ پر درپیش مسائل کے حل کے لیے کام کرنے والی خواتین کے حوالے سے صائمہ محبوب نے رباب مہدی اور رخشندہ ناز کے نام بھی قومی اعزاز کے لیے قابلِ غور قرار دیے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنے قانونی حقوق سے آگاہ کرنا اور انہیں انصاف تک رسائی میں مدد فراہم کرنا بھی ایسی سماجی خدمات ہیں جنہیں قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

اوورسیز پاکستانی خواتین کی خدمات کا اعتراف

صائمہ محبوب نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی خواتین کی خدمات کو بھی سول ایوارڈز کے لیے زیرِ غور لانے کی سفارش کی۔

انہوں نے کہا کہ بعض پاکستانی خواتین بیرونِ ملک رہتے ہوئے پاکستان، بالخصوص خیبر پختونخوا کی خواتین کی تعلیم، فلاح، تربیت اور معاشی خودمختاری کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے سارہ سیدا کا نام بھی تجویز کیا، جو بیرونِ ملک رہتے ہوئے خیبر پختونخوا کی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق اوورسیز پاکستانی خواتین کی خدمات کو تسلیم کرنا اس بات کا اعتراف ہوگا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی ملک کی سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ٹرانس جینڈر افراد کو بھی قومی اعزازات کے دائرے میں لانے کا مطالبہ

صائمہ محبوب نے کہا کہ ایسے ٹرانس جینڈر افراد جو اپنی کمیونٹی کی تعلیم، روزگار، قانونی حقوق اور سماجی بہبود کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں بھی قومی اعزازات کے لیے زیرِ غور لایا جانا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ سول ایوارڈز کے لیے نامزدگی کے عمل میں کسی شخصیت کے سماجی اثرات کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

ان کے مطابق یہ دیکھا جانا چاہیے کہ کسی فرد کے کام سے کتنے لوگ مستفید ہوئے، اس کا اثر کتنا دیرپا رہا اور آیا اس کے نتیجے میں معاشی، سماجی یا قانونی طور پر دوسروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے۔

محبوب نے کہا کہ مقصد صرف خواتین کی نمائندگی کو کسی مخصوص تناسب تک پہنچانا نہیں بلکہ ایسا شفاف اور جامع نظام بنانا ہونا چاہیے جس کے ذریعے حقیقی طور پر مستحق خواتین کی شناخت ہوسکے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں سول ایوارڈز کے لیے نامزدگی کے عمل میں خواتین کی معاشی خودمختاری، سماجی خدمت، کاروبار، انٹرپرینیورشپ، انصاف تک رسائی، قانونی حقوق، کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کے لیے خدمات کو بھی واضح اہمیت دی جائے۔

ان کے بقول، جو خواتین دوسری خواتین کو تعلیم، روزگار، کاروبار، انصاف یا معاشی خودمختاری کے حصول میں مدد دے رہی ہیں، ان کی خدمات کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور قومی سطح پر ان کا اعتراف نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی بلکہ پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

Scroll to Top