حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سزا یافتہ قیدی کا بلا تاخیر ہسپتال میں تفصیلی طبی معائنہ کرایا، جہاں ماہرین اور میڈیکل بورڈ کی دستیابی کے باعث عدالتی فیصلے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا گیا۔
حکومتی مؤقف کے مطابق الشفا انٹرنیشنل ہسپتال کے اطراف پارٹی کارکنوں، مختلف گروہوں، میڈیا وینز اور نمائندوں کے غیرمعمولی اجتماع کے باعث سکیورٹی، رازداری اور انتظامی خدشات پیدا ہوگئے تھے، جس کے پیش نظر طبی معائنے کے لیے مقام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سزا یافتہ قیدی کو پمز ہسپتال منتقل کرنا طبی معائنے یا علاج سے انکار نہیں بلکہ زیادہ محفوظ ماحول میں وہی طبی سہولیات فراہم کرنے کا انتظام تھا۔ سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا یہ فیصلہ عدالتی حکم سے انحراف قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حکومت کے مطابق پمز ملک کے بڑے سرکاری و تدریسی ہسپتالوں میں شامل ہے، جہاں متعلقہ شعبوں کے مستند ماہرین اور مکمل طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ زیرِحراست افراد کو مروجہ طریقہ کار کے مطابق طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور مذکورہ سزا یافتہ قیدی کو ماضی میں بھی طبی معائنے کے لیے سرکاری ہسپتال لے جایا جاتا رہا ہے۔
حکام کے مطابق طبی معائنے کے لیے ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مکمل میڈیکل بورڈ موجود تھا۔ تفصیلی معائنے کے بعد سزا یافتہ قیدی کو طبی لحاظ سے مکمل طور پر فٹ قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان شفا انٹرنیشنل منتقل، حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر من و عن عملدرآمد کر دیا
حکومتی مؤقف کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے میڈیکل بورڈ کی موجودگی اس امر کا ثبوت ہے کہ طبی معائنے کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی گئی۔
سزا یافتہ قیدی کی ہمشیرہ محترمہ عظمیٰ خان بھی تمام طبی مراحل کے دوران موجود رہیں، جس سے طبی معائنے کے عمل میں خاندان کی نمائندگی اور شفافیت یقینی رہی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تازہ طبی معائنے کے نتائج نے سزا یافتہ قیدی کی صحت مسلسل خراب ہونے سے متعلق پی ٹی آئی کے دعووں کی نفی کردی ہے۔
حکام کے مطابق طبی معائنے کے دوران سزا یافتہ قیدی طبی لحاظ سے فٹ اور خوشگوار موڈ میں تھے، جبکہ انہوں نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔





