امریکی فورسز نے ایران کے لارک جزیرے پر 2 راکٹ لانچرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو کئی ہفتوں بعد ایران میں امریکہ کی پہلی معلوم فضائی کارروائی ہے، پاسداران انقلاب نے حملوں میں کئی افراد کے جاں بحق و زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے ۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگیں پہنچانے کے لیے راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے کہ اس دوران امریکی فورسز نے فضائی کارروائی کی۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے حملے میں متعدد افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے امریکہ کو جوابی کارروائی اور سزا کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حملہ ڈرونز کے ذریعے کیا گیا جس میں 2 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز تمام جہازوں کے لیے کھلی ہے، ایران کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں، سینٹکام
لارک جزیرہ ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس کے قریب آبنائے ہرمز میں واقع ہے جو عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں یا تو دھماکے سے ختم کردی گئی ہیں یا نکال دی گئی ہیں۔





