کامران علی شاہ
پشاور کے علاقے نادرن بائی پاس پر پولیس پارٹی پر ہونے والے ہائی پروفائل مسلح حملے کے بعد اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ واقعہ کے دوران شدید زخمی ہونے والا خطرناک اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا ہے۔
واقعے کی باضابطہ تصدیق ترجمان (پی آر او) پشاور پولیس محمد عالم آفریدی نے کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ شاہ پور کی حدود نادرن بائی پاس پر یہ سنسنی خیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس کی ایک ٹیم خطرناک اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے کو اپنی تحویل میں لے کر منتقل کر رہی تھی۔ اسی اثنا میں پہلے سے گھات لگائے مسلح حملہ آوروں نے پولیس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کر دی اور دستی بموں (ہینڈ گرنیڈ) سے حملہ کر دیا۔
اس اچانک اور شدید حملے کے نتیجے میں موقع پر موجود دو ایس ایچ اوز شدید زخمی ہو گئے جبکہ پولیس تحویل میں موجود مجرم ممتازے بھی گولیوں کی زد میں آ کر شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس کی جانب سے فوراً پوزیشن سنبھالتے ہوئے کی گئی مؤثر جوابی فائرنگ کے نتیجے میں دو حملہ آور موقع پر ہی ڈھیر ہو گئے۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمی ایس ایچ اوز، زیرِ تحویل مجرم اور ہلاک حملہ آوروں کے لاشوں کو اسپتال منتقل کیا۔ بعد ازاں، علاج کے دوران اشتہاری مجرم ممتازے دم توڑ گیا۔
سی سی پی او پشاور کی ہدایت پر نادرن بائی پاس اور ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے اور سرچ آپریشن کے ذریعے مزید مشتبہ افراد اور حملہ آوروں کے دیگر سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔





