وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے افغانستان میں ٹھکانے موجود ہیں اور ان کی موجودگی پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔
نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی وجوہات مختلف ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے حوالے سے مسائل کی جڑیں گزشتہ کئی دہائیوں سے جڑی ہوئی ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں صورتحال کا بیک گراؤنڈ مختلف ہے۔
خواجہ آصف نے افغانستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ افغانستان میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں اور افغان طالبان کے لیے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو کنٹرول کرنا ایک مشکل امر بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو تاکہ یہ ملک بلوچستان میں مسائل کو مزید ہوا نہ دے۔
وزیردفاع نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ بلوچستان کے سیاسی مسائل کا حل ممکن ہے، لیکن اس کے لیے صوبے میں اعتماد کی فضا قائم کرنا ضروری ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تحفظات 50 سے 70 سال پرانے ہیں، جنہیں حل کرنے کے لیے حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
نواز شریف کے دور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2018 تک بلوچستان میں امن قائم تھا، لیکن اس کے بعد حالات پیچیدہ ہوگئے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان کے سیاسی رہنماؤں کو اپنے کردار پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ صوبے میں امن کی فضا قائم کی جا سکے۔
کشمیر کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے وزیردفاع نے کہا کہ بھارت کا کشمیر پر موقف پاکستان کے موقف سے متصادم ہے۔
یہ بھی پڑھیں افغانستان میں ساری دنیا کی دہشتگرد تنظیمیں موجود ہیں، خواجہ آصف
آخر میں خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اب تک دہشت گردی کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔ وہ ہر معاملے پر بیان دیتے ہیں، لیکن اس اہم قومی مسئلے پر ان کی خاموشی واضح طور پر پاکستان کی سلامتی کے معاملے میں ان کے موقف کو مشتبہ بناتی ہے۔
پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی مسائل پر وزیردفاع کا یہ بیان ان خدشات کو اجاگر کرتا ہے جو ملک کو دہشت گردی اور افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے درپیش ہیں۔





