دنیا بھر میں بچوں میں موٹاپے کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی، پہلی بار موٹے بچے کم وزن بچوں سے زیادہ ہو گئے ۔
عالمی سطح پر بچوں کی صحت کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں اب بچوں میں موٹاپا ایک سنگین اور خاموش وبا کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، دنیا کی تاریخ میں پہلی بار اسکول جانے والے موٹے بچوں کی تعداد کم وزن بچوں سے بھی بڑھ گئی ہے۔
یونیسیف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، بچوں میں غیر صحت بخش غذاؤں، الٹرا پروسیسڈ فوڈز اور میٹھے مشروبات کا بے دریغ استعمال اس بحران کی بنیادی وجہ بن رہا ہے۔
ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ سنہ 2010 کے بعد سے دنیا کے 180 سے زائد ممالک میں بچوں کے زائد وزن میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا ہے کہ اب یہ مسئلہ صرف امیر ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں بھی بچوں میں موٹاپا تیزی سے پھیل رہا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2040 تک موٹاپے کا شکار اکثریت کا تعلق انہی ممالک سے ہوگا۔
ماہرین نے والدین اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی خوراک اور طرزِ زندگی میں فوری تبدیلی لائیں تاکہ اس نسل کو سنگین بیماریوں سے بچایا جا سکے۔





