شہزاد نوید
سوات : سوات میں سوشل میڈیا پر سکول کے طالب علم کی قابل اعتراض ویڈیو وائرل کرنے کے معاملے پر تھانہ سیدو شریف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
سوات پولیس کے مطابق گزشتہ روز سوشل میڈیا پر سکول طلباء کی جانب سے اپنے ہی سکول فیلو کی قابل اعتراض ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے کی ویڈیو زیر گردش تھی۔
پوسٹ کا ڈی پی او سوات محمد عمر خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ سیدو شریف ضیاء الرحمن کو کارروائی کا حکم دیا۔
پولیس کے مطابق ایس ایچ او تھانہ سیدو شریف نے دیگر پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث تینوں ملزمان عبداللہ ولد یعقوب، صابر ولد اقبال حسین اور محمد بلاول ولد فرمان، ساکنان آخون بابا، کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان سوات پولیس کے مطابق ملزمان نے اپنے ہی سکول کے جماعت نہم کے طالب علم محمد سدید کو پارٹی کے بہانے حجرے میں لے جا کر اس کے ساتھ بدفعلی کی، اس کی قابل اعتراض ویڈیو ریکارڈ کی اور کسی کو بتانے کی صورت میں جان سے مارنے اور ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : سوات میں طالب علم کو حجرے میں لے جا کر بدسلوکی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
پولیس کے مطابق واقعے کی مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
یاد رہے کہ سوات میں طالب علم کو مبینہ طور پر حجرے میں لے جا کر اسلحے کی نوک پر بدسلوکی کرنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد شہریوں میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
وائرل ویڈیو کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق طالب علم کے ساتھ مبینہ طور پر اس کے کلاس فیلوز نے نجی حجرے میں بدسلوکی کی تھی۔ ویڈیو میں طالب علم سے پستول کی نوک پر یونیفارم اترواتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
واقعے پر ڈی پی او سوات نے نوٹس لیتے ہوئے ویڈیو میں موجود ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے تھے، جبکہ شہریوں نے بھی ملوث افراد کو گرفتار کرکے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔





