اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیرمقام نے ملاقات کی، جس میں آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ خیبرپختونخوا میں بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح ترقی ہو۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر انجینئر امیرمقام نے وزیراعظم کو آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں جاری امور اور پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دی۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل
وزیراعظم نے عوام کی فلاح و بہبود، ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں : لوئر چترال پولیس کے 14 ہیڈ کانسٹیبلز کواے ایس آئی کے عہدے پر ترقی
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ترقی اور عوام کی خوشحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
خیبرپختونخوا میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ عرصے کے دوران دہشتگردی کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔آج کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔
گزشتہ روز ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ گومل یونیورسٹی کی حدود میں قریشی موڑ ابھایہ پل کے قریب دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 کسٹم اہلکار شہید ہوئے تھے۔
اسی روز دہشتگردی کا دوسرا واقعہ تھانہ ڈیرہ کی حدود مفتی محمود چوک کے قریب پیش آیا، جہاں دہشتگردوں نے ٹریفک پولیس موبائل کو نشانہ بنایا۔ حملے میں کانسٹیبل ڈرائیور محمد حبیب شہید ہوگئے۔
ٹانک میں پولیس گاڑی پر فائرنگ
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی لانگ مارچ چھوڑ کر سی ایم ہاؤس روانہ
28 ستمبر 2026 کو ضلع ٹانک کے علاقے وزیر آباد میں ٹریفک پولیس کی موبائل گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 2 راہ گیر زخمی ہوگئے تھے۔
اس سے ایک روز قبل 27 ستمبر کو ضلع لکی مروت میں دہشتگردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد شہید جبکہ 3 زخمی ہوئے تھے۔
26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک چیک پوسٹ پر مبینہ خودکش دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ 35 زخمی ہوگئے تھے۔
18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران حملہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 21 افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔





