گورنر کے آئینی اختیارات کو چیلنج کرنے والے پہلے آئین کا مطالعہ کریں،احمد کریم کنڈی

 خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی نے صوبائی حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو آئینی ناسمجھی، گورنر کے اختیارات پر غیر ضروری تنقید اور سیکیورٹی ناکامیوں پر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

 پشاور پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے پی پی پی رہنما نے صوبائی کابینہ کے اعلامیے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آئین و قوانین پر اعتراض اٹھانے والے پہلے آئین کی الماریوں پر جمنے والی دھول صاف کر کے اس کا مطالعہ کریں۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 131، آرٹیکل 149، رولز آف بزنس کے آرٹیکل 37 اور شیڈول 7 کے تحت گورنر خیبرپختونخوا کو یہ قانونی حق حاصل ہے کہ وہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پی سے سیکیورٹی پر بریفنگ لیں اور انتظامی امور پر نظر رکھیں۔

 پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو جماعت روزانہ کی بنیاد پر وفاق اور گورنر سے تصادم کی راہ اختیار کرتی ہے، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ 93 فیصد وفاقی فنڈز پر چلنے والا صوبہ وفاق اور آئینی اداروں سے لڑ کر ترقی نہیں کر سکتا۔

احمد کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے طرزحکمرانی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت شدید سیکیورٹی چیلنجز سے گزر رہا ہے اور عوام مسلح عناصر کے رحم و کرم پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سوات: سوشل میڈیا پر جوئے اور لکی ڈرا کی اسکیموں پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد

انہوں نےکہاکہ اتنی سنگین صورتحال کے باوجود صوبائی حکومت سیکیورٹی بہتر بنانے یا پولیس اور سی ٹی ڈی کو بلٹ پروف گاڑیاں اور جدید اسلحہ فراہم کرنے کے بجائے ٹرکوں پر چڑھ کر سیاست اور پوائنٹ اسکورنگ کر رہے ہیں۔

 انہوں نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں این ایف سی ایوارڈ اوروار آن ٹیررکے 1 فیصد حصے کے تحت صوبے کو 900 ارب روپے سے زائد فراہم کیے جبکہ آج بھی سالانہ 130 سے 140 ارب روپے صوبے کو مل رہے ہیں مگر پی ٹی آئی ان فنڈز کو سیکیورٹی پر خرچ کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔

 احمد کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہمیشہ مفاہمت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک فورم پر بٹھانے کی بات کیجبکہ پی ٹی آئی نے صرف انتشار، تقسیم اور تشدد کو فروغ دیا ہے۔

 انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی تصادم اور انتقام کی سیاست چھوڑ کر آئینی حدود کا احترام کرے۔

Scroll to Top