پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے جاری لانگ مارچ کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مارچ کے اگلے مرحلے کا پروگرام حتمی شکل دے دی ہے۔
جاری شیڈول کے مطابق وزیراعلیٰ آج پشاور کے مختلف مقامات پر اجتماعات سے خطاب کریں گے اور 11 اکتوبر تک مختلف اضلاع میں کارکنوں اور عوام کے درمیان موجود رہتے ہوئے لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔
شیڈول کے مطابق 9 اکتوبر کو لانگ مارچ چارسدہ، 10 اکتوبر کو مردان جبکہ 11 اکتوبر کو تمام قافلے صوابی پہنچیں گے، جہاں وزیراعلیٰ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : نعروں اور ٹک ٹاک ویڈیوز سے صوبے نہیں چلتے، امیر مقام نے پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لے لیا
پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری علی اصغر نے ضلعی تنظیموں، منتخب نمائندوں اور کارکنوں کو منظم استقبال اور عوامی رابطہ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی ترجیحات پر اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید بھی کی جارہی ہے۔کہ خیبرپختونخوا بدامنی، دہشتگردی اور مہنگائی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں صوبائی حکومت کی توجہ مسلسل سیاسی سرگرمیوں اور لانگ مارچ کی جانب مرکوز ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں شہریوں، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو جانی نقصان کا سامنا ہے،
جبکہ عوام کو مہنگائی اور امن و امان کے مسائل درپیش ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے صوبے کے انتظامی اور عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور آئی ایم ایف میں اتفاق، پیٹرول سبسڈی مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ
اپوزیشن کی جانب سے لانگ مارچ کو ’’انتشاری سیاست‘‘ اور اسلام آباد کی جانب پیش قدمی قرار دیتے ہوئے بھی تنقید کی جارہی ہے۔
ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے وسائل اور حکومتی مشینری کو سیاسی سرگرمیوں کیلئے استعمال کرنے کے بجائے صوبے میں امن، گورننس اور عوامی ریلیف کیلئے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ عمران خان کی سیاسی حمایت کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ صوبے کے عوام کو درپیش دہشتگردی، بدامنی، مہنگائی اور گورننس کے مسائل پسِ پشت جا رہے ہیں۔





