سینئر صحافی عرفان خان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کا دہشت گردی سے متعلق اپنایا گیا موقف اور بیانیہ بالکل وہی تھا جو دہشت گرد عناصر کا ہے اسی لیے یہ قدم سامنے آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پائیدار امن اور انسدادِ دہشت گردی کی جاری اقدامات کے لیے گورنر راج کا فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ اب جب امن و امان قائم ہو جائے تو جمہوری و انتظامی طریقے سے جو بھی آئے وہ آ جائے لیکن اس وقت کی سنگین صورتحال میں یہ ایک لازمی فیصلہ تھا۔
عرفان خان نے مزید بتایا کہ صوبے میں تفرقہ اور کشیدگی کی سیاست چمکائی جا رہی تھی جبکہ مرکز کے ساتھ مسلسل تناؤ برقرار رکھا گیا۔ ریڈیو پاکستان حملے کے کیس میں وزیراعلیٰ مجرم ثابت ہو کر نااہل ہو چکے تھے۔
ملک دشمنی پر مبنی اس بیانیے کو ختم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی راہ اپنائی گئی مگر پی ٹی آئی نے بات ماننے سے انکار کر دیا۔





