پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی ہوا نکل گئی، کبوتر چوک میں سناٹا، قیادت غائب

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا نام نہاد لانگ مارچ پشاور پہنچ کر دم توڑ گیا، نعرے بازی، جذباتی تقریروں اور بڑے بڑے دعوؤں کے باوجود کبوتر چوک میں عوامی جوش و خروش دکھائی نہ دینے پر مارچ کی حکمت عملی اور قیادت کے کردار پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

پشاور کے کبوتر چوک میں سامنے آنے والے مناظر کو اس طرزِ سیاست کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے جو بڑے دعوے کرنے میں تو پیش پیش ہے، لیکن زمینی حقائق کا سامنا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

لانگ مارچ پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے، تاہم تنقیدی مؤقف کے مطابق عوامی دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہی۔

ایک طرف قیادت کی جانب سے نظام کو ہلا دینے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے دعوے کیے گئے، تو دوسری طرف مارچ کے آخری پڑاؤ، کبوتر چوک، میں متوقع گہماگہمی نظر نہیں آئی اور پشاور میں معمولاتِ زندگی جاری رہے۔

یہ بھی پڑھیں : کارکنان کی گرفتاری سے متعلق پی ٹی آئی اکاؤنٹس سے شیئر کی گئی ویڈیو 2 سال پرانی نکلی

مارچ میں شریک کارکنوں کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ جن رہنماؤں کی ایک جھلک دیکھنے کے منتظر تھے، وہ خود منظر سے غائب دکھائی دیے۔ اس صورت حال نے قیادت کی حکمت عملی اور کارکنوں کے ساتھ اس کے رابطے پر سوالات اٹھا دیے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور دیگر صفِ اول کے رہنماؤں کی کبوتر چوک میں عدم موجودگی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کارکنان کا کہنا ہے کہ جب قیادت اپنے کارکنوں کے ساتھ موجود نہ ہو تو اسے عوامی نمائندگی کے دعوؤں کا جواب دینا چاہیے۔

 مارچ کا مقصد کسی واضح سیاسی ایجنڈے کے بجائے سیاسی تشہیر اور قیدی کی رہائی کے معاملے پر توجہ حاصل کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : علیمہ خانم کے خلاف 26 نومبر احتجاج کیس کا فیصلہ تیسری بار مؤخر، نئی تاریخ مقرر

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سابقہ طرزِ عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشکل حالات اور فیصلہ کن مواقع پر قیادت نے پیچھے ہٹنے کو ترجیح دی۔

اسی تناظر میں مارچ کے دوران اہم رہنماؤں کی غیر موجودگی کو کارکنوں کی توقعات کے برعکس قرار دیا گیا ہے۔

اس تمام صورت حال میں عوامی مشکلات کو بھی موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ تنقیدی مؤقف کے مطابق عوام ایک طرف حکومتی کارکردگی سے پریشان ہیں، تو دوسری طرف روزگار، مہنگائی اور بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل بھی ان کے لیے مسلسل مشکلات کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

کبوتر چوک میں شرکا کی مبینہ کم تعداد اور قیادت کی عدم موجودگی کو پی ٹی آئی کے تنظیمی نظم و ضبط اور سیاسی حکمت عملی میں کمزوری سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین  کے مطابق جماعت احتجاجی سیاست پر تو انحصار کرتی ہے، لیکن عوامی حمایت اور کارکنوں کی مؤثر شمولیت یقینی بنانے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : منہ کھول دیا تو سب بے نقاب ہو جائیں گے،علی امین گنڈا پور کا سہیل آفریدی کے بیان پر ردعمل

ان کے بقول احتجاجی سیاست میں قیادت کا ہراول دستے میں ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے، مگر اس مارچ میں پچھلی صفوں کی موجودگی بھی سوالات کی زد میں رہی۔

تنقید میں مزید کہا گیا ہے کہ محض جذبات، دھرنوں، مارچوں اور اسٹیج پر تقاریر کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

اگر کسی جماعت کے پاس متبادل معاشی اور سیاسی لائحۂ عمل نہ ہو تو بڑے بڑے دعوے بھی عوامی حمایت برقرار رکھنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتے۔

 پشاور میں مارچ کی صورت حال کو اسی تناظر میں پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کے لیے ایک بڑا سوال قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں مارخور کے چار پرمٹس تاریخی قیمت پر نیلام

سیاسی منظرنامے کے حوالے سے تنقیدی تحریر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے بعد محض سیاسی بیانیے کی بنیاد پر عوام کو سڑکوں پر لانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں حکمران جماعت کو اقتدار مخالف رجحانات کا سامنا ہے۔

معاشی مشکلات، روزگار کے محدود مواقع اور نوجوان ووٹرز کی توقعات پوری نہ ہونے کو بھی پی ٹی آئی کے لیے چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، جماعت کے اندرونی اختلافات اور فیصلہ سازی میں ابہام کو احتجاجی تحریک کی راہ میں رکاوٹیں بتایا گیا ہے۔

تنقیدی مؤقف کے مطابق اگر پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی حکمت عملی اور تنظیمی ڈھانچے میں موجود مسائل پر قابو نہ پایا تو مستقبل میں عوامی مقبولیت اور سیاسی بقا برقرار رکھنا اس کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔

Scroll to Top