وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں کی حمایت کی اور بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے خلاف سخت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، لیکن دہشتگردی کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشتگردی کے حوالے سے عمران خان نے ہمیشہ منفی کردار ادا کیا ہے اور ان کے کسی مثبت کردار کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ دہشتگردی کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ سیاسی مفادات کا شکار ہو کر قوم کو گمراہ کیا۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ یہ وقت ہے کہ تمام سیاسی قوتیں دہشتگردی کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوں اور قومی مفادات کو مقدم رکھیں۔
رانا ثنا اللہ نے بلوچستان میں دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر بھی اظہارِ تشویش کیا اور کہا کہ دہشتگردوں نے بلوچستان میں خوف و ہراس کا ماحول قائم کر رکھا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی قومی قیادت کو دہشتگردی سے فاصلہ اختیار کرنا چاہیے اور ایسے عناصر کے ساتھ کسی قسم کا ڈائیلاگ نہیں ہو سکتا جنہوں نے ہتھیار اٹھا رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سیاستدانوں کی اپنی مجبوریاں ہیں لیکن اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ دہشتگردوں کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیں۔ ہمیں اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ان عناصر کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کرنا ہو گا۔
رانا ثنا اللہ نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط اور مستحکم قرار دیا اور کہا کہ ان کا تعلق مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہمیشہ قائم رہے گا۔ انہوں نے بلوچستان کی سیاستدانوں سے بھی درخواست کی کہ وہ قومی سطح پر دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کریں۔
یہ بھی پڑھیں پرویز خٹک خیبرپختونخوا حکومت کی حکمت عملی میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں: رانا ثنا
وزیر داخلہ نے بلاول بھٹو زرداری سے درخواست کی کہ وہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اگلے اجلاس میں شریک ہوں۔ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جو لوگ پہلے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، وہ اب شرکت کریں تاکہ ہم قومی سلامتی کے معاملے پر تمام پارلیمانی جماعتوں کا مشترکہ موقف تشکیل دے سکیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ قومی سلامتی کے پارلیمانی کمیٹی کا دوبارہ اجلاس بلانے میں کوئی خرچ نہیں آتا، اور اس کے انعقاد کے لیے تمام سیاسی قوتوں کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کا معاملہ بہت سنگین ہے اور اس کے لیے ہر مہینے اجلاس بلایا جانا چاہیے تاکہ دہشتگردی کے مسئلے کو موثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ قومی حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کی جائیں تاکہ ملک بھر میں امن و سکون قائم کیا جا سکے اور دہشتگردی کا خاتمہ ہو سکے۔





