پشاور( سلمان یوسفزئی) خیبرپختونخوا کے سب سے بڑے شہر پشاور میں 42 لاکھ سے زائد شہریوں کے لیے سرکاری اسپتالوں میں آئی سی یو بیڈز کی شدید کمی کا انکشاف ہوا ہے، جس نے صحت کے شعبے کی موجودہ صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہر کے تین بڑے تدریسی اسپتالوں میں مجموعی طور پر صرف 109 آئی سی یو بیڈز موجود ہیں، جو کسی بھی بڑے طبی بحران یا ایمرجنسی کی صورت میں نہایت ناکافی ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) میں صرف 35 آئی سی یو بیڈز ہیں، جن میں سے 20 بیڈز میڈیکل اور سرجیکل آئی سی یو کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ باقی 15 بیڈز مختلف اسپیشلٹیز کے مریضوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس اسپتال میں آئی سی یو ماہرین کی تعداد بھی انتہائی محدود ہے، جہاں صرف 5 سے 6 اسسٹنٹ پروفیسرز تعینات ہیں۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) میں 34 آئی سی یو بیڈز دستیاب ہیں، جن میں 18 جنرل آئی سی یو، 9 نیوروسرجری آئی سی یو اور 7 پیڈیاٹرک آئی سی یو کے بیڈز شامل ہیں۔ اسی طرح خیبر ٹیچنگ اسپتال (کے ٹی ایچ) میں تقریباً 40 بیڈز موجود ہیں، جو مختلف شعبہ جات میں تقسیم کیے گئے ہیں۔
ماہرین صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے صرف 109 آئی سی یو بیڈز انتہائی ناکافی ہیں اور کسی بھی آفت یا وبائی مرض کی صورت میں ہزاروں افراد کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت کا سرکاری ہسپتالوں میں کلینیکل آڈٹ کرانے کا فیصلہ
اس حوالے سے خیبرپختونخوا کے مشیر صحت، اختشام علی نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت اس مسئلے سے باخبر ہے اور اس پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق دو اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ پالیسی بورڈ نے تمام میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئیز) کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس، آئی سی یوز اور ایچ ڈی یوز کی گنجائش بڑھائیں۔ دوسرا یہ کہ حکومت صوبے کے تمام اسپتالوں میں ایکسیڈنٹ ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت وارڈز پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
اختشام علی نے مزید کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ ہر ضلع میں کم از کم تین سے چار آئی سی یو بیڈز فراہم کیے جائیں اور آئندہ مرحلے میں صوبے کے تمام اسپتالوں میں آئی سی یو بیڈز کی تعداد کل بستروں کا کم از کم تین فیصد تک پہنچائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی عملے کی تربیت اور جدید طبی آلات کی فراہمی پر بھی کام جاری ہے تاکہ عوام کو بروقت اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔





