پاکستان کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ وزیر دفاع خواجہ آصف کا دو ٹوک بیان سامنے آگیا

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر خطے میں ایٹمی کشیدگی بڑھی تو اس کی لپیٹ میں تماشبین بھی آئینگے، ’’یہ جنگ صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کر دیا ہے کہ ملک نہ صرف موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے بلکہ اگر معاملات اگلے مرحلے تک گئے تو اس کے لیے بھی مکمل تیاری کی جا چکی ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہے۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت نے پچھلے چند روز میں بظاہر امن کی بات کی ہے لیکن عملی طور پر اس کی جارحیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے گارڈز ڈاؤن نہیں کریں گے، اگر معاملہ بڑھا تو ہم ہر سطح پر جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں ایٹمی کشیدگی بڑھی تو اس کی لپیٹ میں تماشبین بھی آئیں گے۔ ’’یہ جنگ صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ دنیا بھر پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے،‘‘ انہوں نے خبردار کیا۔

خواجہ آصف نے بین الاقوامی برادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اب تک صرف تماشبینی کی گئی ہے، لیکن اب دنیا کو اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’اگر ہم یہ ردعمل نہ دیتے تو بھارت دو یا تین ماہ بعد دوبارہ ہم پر چڑھائی کر دیتا۔ ہم نے مؤثر کارروائی سے بھارت کو روکا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اب جارحیت برداشت نہیں کرے گا۔‘‘

نور خان ایئربیس پر حملے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’صرف ایک گاڑی کو نقصان پہنچا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور نقصان نہیں ہوا۔‘‘

وزیر دفاع نے بتایا کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا، البتہ وزیر اعظم شہباز شریف نے آج رات ساڑھے آٹھ بجے ایک اہم میٹنگ طلب کی ہے، جس میں تمام سیاسی و عسکری قیادت کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ ’’یہ یکجہتی کا پیغام ہوگا، اور دشمن کو بھی واضح اشارہ ملے گا کہ پوری قوم اور قیادت ایک صفحے پر ہے۔‘‘

Scroll to Top