امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق، پاکستان کی جانب سے سفارتکاری کو موقع دینے کی خواہش کو بھارت نے کمزوری سمجھا، جو بالآخر اسے مہنگی پڑی۔ پاکستان کے غیر متوقع سخت جواب نے بھارت کو صلح پر مجبور کر دیا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی بھارتی حملوں کا فوری جواب نہیں دیا اور عالمی سفارتی کوششوں کو موقع دینے کا فیصلہ کیا لیکن بھارت کی جانب سے علی الصبح تین پاکستانی فضائی اڈوں پر حملوں نے صورتحال کو سنگین رخ دے دیا۔
جمعہ کو فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ہونے والی پیش رفت کے باوجود بھارت کی جارحیت نے پاکستان کو یہ باور کرا دیا کہ سفارتکاری کے دروازے بند ہو چکے ہیں اس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے فوجی اہداف اور فضائی اڈوں کو سخت اور مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جس سے بھارت حیران و پریشان رہ گیا۔
پاک فوج کے ترجمان نے اس صورتحال پر دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول پر عمل کیا جائے گا۔
سی این این کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے، جمعہ کے روز امریکی انٹیلی جنس اداروں کو ایسی خطرناک معلومات موصول ہوئیں جنہوں نے واشنگٹن کو فوری متحرک کر دیا امریکی صدر کو بریفنگ دی گئی جس کے بعد نائب صدر نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو فون کر کے خبردار کیا کہ تنازع خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے اور بھارت کو پاکستان سے براہ راست بات چیت کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے میزائل حملوں نے بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا،امریکی صحافی کا انکشاف
امریکی دباؤ کے بعد بھارت نے جنگ بندی پر اصولی رضامندی ظاہر کی تاہم اس کے باوجود مزید راکٹس فائر کیے گئے جن کا پاکستان نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔
امریکی یقین دہانیوں کے بعد توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بحال رہے گا اور کشیدگی میں مزید کمی ممکن ہو سکے گی۔





