نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت نے حملے سے پہلے اطلاع دی تھی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم جے شنکر نے یہ اطلاع کس کو دی، پاکستان کو ایسی کوئی پیشگی اطلاع نہیں ملی۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیزفائر رابطوں کا عمل کامیابی سے جاری ہے جو صرف جنگ بندی پر ہی مبنی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل المدتی حکمت عملی بھی کارفرما ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ بعض ممالک کا کہنا تھا کہ بھارت پلوامہ جیسے واقعے کی آڑ میں کوئی بڑا اقدام کرے گا تاہم پاکستان نے واضح کر دیا تھا کہ اگر بھارت نے پہل کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو جواز بنا کر اپنی جارحانہ حکمت عملی اپنائی اور بھارتی میڈیا نے اتنا شور مچایا جیسے یہ پلوامہ ٹو ہو تاہم بھارت آج تک پہلگام واقعے کا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد ممالک کو پیشگی طور پر آگاہ کیا تھا کہ ہم پہل نہیں کریں گے لیکن جب تک بھارتی طیاروں نے حملہ نہیں کیا، پاکستان نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ 9 اور 10 مئی کو بھارت کی طرف سے حملے کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، بھارت کے 6 طیارے حملے کے لیے آئے اور وہی چھ طیارے مار گرائے گئے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ 7 مئی کے بعد کئی ممالک نے پاکستان سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی جسے پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔





