آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، جس کے بعد آج (پیر) سے پالیسی سطح پر بجٹ مذاکرات کا باضابطہ آغاز ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے نئے مالی سال کے بجٹ میں متعدد اہم تجاویز پیش کی جائیں گی، جن میں سپر ٹیکس کے خاتمے، درآمد و برآمدات پر ٹیکسوں میں کمی، رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ریلیف اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد بجٹ میں ایسے فیصلے کرنا ہے جو کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیں، مہنگائی سے متاثر عوام کو ریلیف فراہم کریں، اور آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مالیاتی پروگرام کے تحت اہداف کو بھی پورا کیا جا سکے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت پاکستان آئی ایم ایف کو قائل کرنے کی کوشش کرے گی کہ سپر ٹیکس کے خاتمے سے سرمایہ کاری بڑھے گی اور معیشت میں بہتری آئے گی، جبکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف دینے سے کنسٹرکشن انڈسٹری کو سہارا ملے گا، جس کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے ان تجاویز پر سخت مالی نظم و ضبط، ریونیو اہداف اور مالی خسارے کے کنٹرول کے تناظر میں جانچ پڑتال کی جائے گی۔ پالیسی مذاکرات آئندہ چند روز تک جاری رہنے کا امکان ہے، جن کے اختتام پر اسٹاف لیول معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔





