عرفان صدیقی نے کہاہےکہ جب بھارت نے 2019 میں بالا کوٹ پر حملہ کیا تھا، نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں تھے، کیا ہم نے کہا کہ نواز شریف کو پیرول پر رہا کرو؟
تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینٹر عرفان صدیقی نے نجی ٹی وی چینل سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پیرول پر رہائی کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے بھی کوئی شخص پیرول پر رہا ہوا ہے تو پھر بانی پی ٹی آئی کو کیوں رہا کیا جائے۔
عرفان صدیقی نے کہا،’’جب بھارت نے 2019 میں بالا کوٹ پر حملہ کیا تھا، نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں تھے، کیا ہم نے کہا کہ نواز شریف کو پیرول پر رہا کرو؟ تب ہم بات چیت کریں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے قومی سلامتی اجلاس میں بھرپور شرکت کی لیکن بانی پی ٹی آئی اس میں کبھی شامل نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا چیئرمین موجود ہے، ایسے میں بانی پی ٹی آئی کو رہا کرنے کی باتیں کرنے والوں کو مزے لینے دیں۔
عرفان صدیقی نے واضح کیا کہ عمران خان کے خلاف ٹھوس اور سیاسی نوعیت کے مقدمات قائم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مقدمات وہ ہوتے ہیں جو تنخواہ نہ لینے یا منشیات ڈالنے جیسے جھوٹے الزامات پر بنائے جاتے ہیں، جبکہ توشہ خانہ اور جعلی ٹرسٹ کے مقدمات سیاسی نہیں کہلاتے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی قیدی یا سیاسی شخصیت کا تعین جرم کی نوعیت کے حساب سے ہوتا ہے، نہ کہ محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر۔





