وفاقی وزیر امیر مقام نے واضح کیا ہے کہ ملک میں عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر یعنی پانچ سال بعد ہوں گے، اس سے پہلے کسی قسم کی توقع بے بنیاد ہے۔
نجی ٹی وی چینل ’’جیو نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے امیر مقام نے اپوزیشن جماعتوں کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ’’چند اشخاص کا اکٹھا ہونا گرینڈ الائنس نہیں کہلاتا، چند افراد کے علاوہ پوری قوم یکجا اور متحد ہے۔‘‘
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر چار روز گزارے اور ہر محاذ پر موجود فوجیوں سے ملاقات کی، جو ان کی جرات مندانہ قیادت کا ثبوت ہے۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر مقام نے صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’کے پی کو سکیورٹی کی مد میں پورے پاکستان سے زیادہ فنڈز دیے گئے، 6 ارب روپے سے زائد رقم فراہم کی گئی، مگر عوام کو کچھ نظر نہیں آیا۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے مختص فنڈز کا کوئی خاطر خواہ استعمال دکھائی نہیں دیتا۔ ’’پولیس، لیبارٹریز، گاڑیاں یہ سب کچھ کہاں گیا؟ عوام جواب چاہتے ہیں۔‘‘
وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں 40 ارب روپے کا ایک بڑا مالی اسکینڈل سامنے آیا ہے۔’’یہ کہانی میں نہیں، ان کے اپنے اسپیکر اور اراکین اسمبلی سنا رہے ہیں۔ آخر کس کی چھتری تلے یہ سب کچھ ہوا؟‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کابینہ کے اراکین خود ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ’’کوئی وزیراعلیٰ کو چور کہتا ہے، تو وزیرِ اعلیٰ اپنے وزیروں کو کرپٹ قرار دیتا ہے۔ اس سے بڑی گواہی اور کیا چاہیے؟‘‘
امیر مقام نے تحریک انصاف کی قیادت پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’کب تک بانی پی ٹی آئی کا نام چلے گا؟ ایک دن آئے گا کہ یہ پارٹی خود ہی بکھر جائے گی۔‘‘





