اسٹینڈنگ کمیٹی محکمہ صحت کی رکن و ممبر صوبائی اسمبلی ثوبیہ خان نے تیمرگرہ میڈیکل کالج میں بڑے مالی اسکینڈل کا انکشاف کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کی رکن اور محکمہ صحت کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی ممبر ثوبیہ خان نے تیمرگرہ میڈیکل کالج میں بڑے مالی اسکینڈل کا پردہ چاک کر دیا ہے، جس میں سازوسامان کی خریداری میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
نجی ٹی وی چینل (ایکسپریس) کے مطابق محکمہ صحت کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں کالج کے لیے خریدے گئے سازوسامان کے حوالے سے گفتگو ہوئی، جس کے بعد کمیٹی نے تیمرگرہ میڈیکل کالج اور ٹیچنگ اسپتال کا دورہ بھی کیا۔
ثوبیہ خان کا کہنا تھا کہ کالج کے پی سی ون میں صرف 24 وینٹی لیٹر کی منظوری دی گئی تھی، جبکہ حقیقت میں 36 وینٹی لیٹر خریدے گئے۔ ان کے مطابق، 4 وینٹی لیٹر تیمرگرہ ٹیچنگ اسپتال میں موجود ہیں، جبکہ باقی 32 وینٹی لیٹر کا کوئی سراغ نہیں۔انہوں نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ قومی خزانے کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔
ہسپتال میں بدتمیزی کا واقعہ
اس دورے کے دوران ایک اور ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آیا۔ ثوبیہ خان کے مطابق، تیمرگرہ ٹیچنگ اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بدتمیزی کی، جس پر انہوں نے اسمبلی میں تحریکِ استحقاق لانے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں متعلقہ ڈاکٹر نے معافی کے لیے جرگہ بھیجا، لیکن ثوبیہ خان نے معافی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ عوامی نمائندوں کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔
تحقیقات کا مطالبہ
اس سنگین مالی بے ضابطگی پر اسٹینڈنگ کمیٹی نے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور قومی وسائل کے ضیاع کا سلسلہ روکا جا سکے۔





