پشاور: سینئر صحافی کاشف الدین سید نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے حالیہ احتجاج کا اعلان خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، تاہم اس واقعے کو بنیاد بنا کر ایسے وقت میں احتجاج کرنا جب پاکستان نے بھارت کو شکست دی ہے اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، کسی طور مناسب نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے بھی کرپشن کے خلاف صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، جس سے خدشہ ہے کہ دونوں جماعتوں کے کارکن آمنے سامنے آ جائیں اور تصادم کی صورتحال پیدا ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ حالات کسی بھی طور پر احتجاج کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
کاشف الدین سید نے خیبرپختونخوا میں سامنے آنے والے سکینڈلز پر بھی حکومت سے واضح موقف کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام سکینڈلز پی ٹی آئی کے دور حکومت میں سامنے آئے اور پرویز خٹک، محمود خان اور علی امین گنڈاپور جیسے افراد عمران خان کے مقرر کردہ تھے، لہٰذا پی ٹی آئی کو بحیثیت جماعت 2013 سے اب تک کی حکومتوں کی مکمل ذمہ داری لینا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور کی تاجر برادری نے مائنز اینڈ منرلز بل اور بجلی بلوں پر فکس ٹیکس مسترد کر دیا
انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات اب شدت اختیار کر چکے ہیں، یہاں تک کہ واٹس ایپ گروپس میں ایک دوسرے کو گالیاں دی جا رہی ہیں۔
انہوں نے جنید اکبر کے استعفے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جنید اکبر کو پارٹی میں کام کرنے نہیں دیا جا رہا، جس کے باعث انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔





