پشاور: سینئر صحافی محمود جان بابر نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے باہر مقیم افغان باشندے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بات آتی ہے تو اکثر افغان افراد بھارت کا ساتھ دیتے ہیں، جو قابلِ افسوس ہے۔
محمود جان بابر نے زور دیا کہ افغان باشندوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے افغان جنہیں پہلے واپس بھیجا گیا تھا، دوبارہ پاکستان آ چکے ہیں، جو اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان بھائیوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے۔
انہوں نے پاک، چین، افغانستان وزرائے خارجہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہوگی تو دونوں ممالک مل کر اس کا سدباب کریں گے، اور کسی کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ہمسایہ ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرے۔
محمود جان بابر نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس ملاقات کے بعد طورخم سرحد بند نہیں ہوگی، اور اگر کسی بھی سطح پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو چین ضرور مثبت کردار ادا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں کاشف الدین سید نے خیبرپختونخوا کے سکینڈلز کا پنڈورا باکس کھول دیا
انہوں نے مزید کہا کہ چین نے اس سہ فریقی ملاقات میں دونوں ممالک کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ اب افغانستان کو بھی سی پیک میں شامل کیا جا رہا ہے اور ان کا زمینی راستہ استعمال ہوگا، جس سے نہ صرف علاقائی روابط بہتر ہوں گے بلکہ افغانستان میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔





