بجٹ 2025-26، قبائلی اضلاع میں تیار اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ

بجٹ 2025-26، قبائلی اضلاع میں تیار اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ایک اہم ٹیکس اصلاحات کے تحت سابقہ قبائلی علاقوں (فاٹا/پاٹا) میں تیار کردہ اشیاء پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدام سیلز ٹیکس سے متعلق دی گئی مراعات ختم کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد محصولات میں اضافے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے حکومت کو آئندہ مالی سال میں پینتالیس ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اگر ان علاقوں کے لیے انکم ٹیکس میں دی گئی نرمی بھی واپس لے لی گئی، تو آمدنی میں مزید نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ قانونی ترامیم کا مسودہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ترامیم عدالتی احکامات اور موجودہ قانونی دفعات کی روشنی میں کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت سابقہ فاٹا اور پاٹا کو درآمدات، مقامی اشیاء کی فراہمی اور بجلی کی سپلائی پر سیلز ٹیکس سے 30 جون 2025 تک استثنیٰ حاصل تھا۔

تاہم، نئی پالیسی کے تحت درآمدات پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے کے لیے پوسٹ ڈیٹڈ چیک کی جگہ پے آرڈر جمع کرانا لازم ہوگا۔ اس کے علاوہ متعلقہ کمشنر کی طرف سے جاری کردہ استعمال یا تنصیب کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر چھ ماہ کے اندر پے آرڈر ریلیز کیا جائے گا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور مالیاتی خود انحصاری کی پالیسی کو عملی شکل دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

Scroll to Top