پاکستان امن کیلئے بھارت سے پانی کے معاملے پر بھی بات کرنے کو تیار ہے: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کے معاملے ، انسداد دہشتگردی اور تجارت پر بھارت کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف نے ایرانی صدر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برادر ملک ایران ہمارا دوسرا گھر ہے، شاندار استقبال پر ایران حکومت اور حکام کا مشکور ہوں، ایرانی صدر سے مختلف شعبوں میں باہمی امور،دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات ہوئی، ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری،کامرس سمیت مختلف معاملات پربات ہوئی، پاکستان ایران کےدرمیان طویل اور تاریخی تعلقات ہیں۔

وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ ایرانی صدر نے پاک بھارت کشیدگی میں صورتحال کنٹرول کرنے میں کردار ادا کیا، دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا، پاکستان نے اللہ کے فضل سے مشکل صورتحال سے نجات حاصل کی، پاکستان خطےمیں امن اور استحکام چاہتا ہے، پاکستان تمام مسائل کا حل مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیرکا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان امن کیلئے ہمسائیہ ملک سے پانی کے معاملے پر بھی بات کرنے کو تیار ہے، چند دنوں پہلے امن کیلئے ہمسائیہ ملک کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی، ایران،دوست ممالک کی مدد سے سیزفائر کرنے میں کامیاب ہوئے۔

پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ جارحیت ہوگی تو ہم بھرپور جواب دیں گے، پانی کےمعاملے،انسداد دہشتگردی ،تجارت پر بات چیت کیلئے تیار ہیں، غزہ کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے،50ہزار سے زائد افراد شہید کیے گئے۔

ایرانی صدر نے شہبازشریف کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایران کا ایک انتہائی اہم ہمسائیہ ملک ہے، پاکستان اور ایران کا علاقائی امن وسلامتی پر مشترکہ مؤقف ہے، دونوں ممالک امن،ترقی اور تعاون کو فروغ دیناچاہتےہیں، اوآئی سی کے پلیٹ فارم پر دونوں ممالک کا مؤقف یکساں ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت،تجارت،مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات ہوئی، خطےمیں امن اور استحکام کیلئے ہمسائیہ ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، پاکستان بھارت کوامن اور ترقی کیلئے مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے، پاک بھارت جنگ بندی کا خیر مقدم کرتےہیں۔

یہ بھی پڑھیں :خیبرپختونخواحکومت نے ’’روشن مستقبل کارڈ اور سہارا کارڈ ‘‘ کا اجرا کردیا

ایرانی صدر کا کہناتھا کہ فلسطین کی صورتحال پر تشویش ہے،عالمی برادری کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔

Scroll to Top