بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ عمران خان نے ملک گیر تحریک کیلئے پارٹی کو تیار اور منظم رہنے کا کہا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے جیل سے ایک بار پھر واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ تمام تر دباؤ، ٹارچر اور قید کے باوجود کسی بھی صورت میں غلامی تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے پارٹی قیادت اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک بڑی، منظم اور ملک گیر تحریک کی تیاری کریں۔
اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کا یہ پیغام ان کی بہن علیمہ خان نے جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں قوم تک پہنچایا۔ علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ ’’میں ساری زندگی جیل میں گزارنے کو تیار ہوں، لیکن جھکوں گا نہیں۔ یہ پارٹی نظریے کی بنیاد پر قائم ہے، اب تحریک صرف اسلام آباد میں نہیں، بلکہ پورے ملک میں ہوگی۔‘‘
عمران خان نے مزید کہا کہ ’’جو بھی فرعونیت یا یزدیت کا نظام ہو، میں غلامی تسلیم نہیں کروں گا۔‘‘ انہوں نے شکایت کی کہ انہیں جیل میں بنیادی قیدی حقوق سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے، حتیٰ کہ بہنوں سے ملاقات اور بچوں سے رابطہ بھی محدود کر دیا گیا ہے، اور ذاتی ڈاکٹر سے طبی معائنہ بھی نہیں کروایا جا رہا۔
علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان نے سختی سے کہا ہے کہ پارٹی سے وفادار نہ رہنے والوں اور دونوں طرف کھیلنے والوں کے لیے اب پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو نظریے کے ووٹ ملے ہیں، اور یہی نظریہ آئندہ تحریک کی بنیاد ہوگا۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے بھی ایکس (سابق ٹوئٹر) پر تصدیق کی کہ عمران خان سے چھ گھنٹے طویل ملاقات ہوئی ہے، جس میں ملک گیر تحریک کی تیاری پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ علی ظفر کے مطابق عمران خان نے قیادت کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ ہر سطح پر تنظیمی ڈھانچے کو متحرک اور منظم کیا جائے، کیونکہ آنے والے دنوں میں فیصلہ کن تحریک شروع کی جائے گی۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ عمران خان پارٹی قیادت کو یاد دلا رہے ہیں کہ قربانی سے نہ گھبرائیں، کیونکہ وہ خود قوم کی خاطر جیل میں سخت ترین حالات برداشت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ، سائفر، اور عدت کیس سمیت متعدد مقدمات میں سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی بھی ایک کیس میں سزا یافتہ ہونے کے باعث جیل میں ہیں۔ پارٹی کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے گزشتہ دو سال کے دوران کئی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ وہ اور ان کی فیملی ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے اور ججز کی آزادی اور انصاف کے لیے کھڑے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ایم این ایز اور صوبائی اسمبلی کے اراکین اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ کر ججز سے اظہار یکجہتی کریں گے۔





