خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں طوفان،آندھی، بارش اور ژالہ باری تباہی مچادی ،ابتدائی اطلاعات کے مطابق مختلف واقعات میں دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع بشمول پشاور، سوات، مانسہرہ، شانگلہ، باڑہ، لنڈی کوتل، بالاکوٹ اور وادیٔ کاغان میں موسلا دھار بارش اور ژالہ باری ہوئی ہے۔
ضلع صوابی میں شدید آندھی اور طوفان کی وجہ سے گاؤں مانکی محلہ شہید آباد میں چاردیواری اور چھت گرنے سے 2 سالہ بچہ جاں بحق جبکہ انکی والدہ اور ایک بچی زخمی ہوگئی جنھیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
صوابی کے علاقے زیارت چم باجا میں طوفانی بارش کی وجہ سے باڑے کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں ماں اور بیٹا ملبے تلے دب گئے،مقامی افراد نے زخمیوں ملبے سے نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا ۔
ضلع شانگلہ کے میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگئے ہیں۔ریسکیو زرائع کے مطابق تحصیل بشام کےویلج کونسل لوسر میں جان زیب نامی شخص کے گھر پر آسمانی بجلی گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 6افراد بے ہوش ہوگئے۔
دوسری جانب صوبائی دارلحکومت پشاور میں موسلا دھار بارش کے باعث سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔طوفانی ہواوں کی وجہ سے متنی میں ہوٹل (ڈھابے) کی چھت گرنے سے تین افراد زخمی ہو گئے۔
سوات کے علاقوں مینگورہ، مالم جبہ اور کالام میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش جبکہ شانگلہ کے الپوری اور گردونواح میں شدید ژالہ باری ریکارڈ کی گئی۔
ہری پورکی تینوں تحصیلوں میں تیز آندھی اور طوفان ہلکی بارش ، تیزی اندھی سے درخت اوربجلی کے کھمبے اکھڑ گئے۔
ایبٹ آبادمیں طوفانی بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی سے مانسہرہ روڈ پر ٹریفک جام ہو گیا۔
کوہستان کے علاقے لوئر کوہستان میں شاہراہِ قراقرم پر طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مختلف مقامات پر بند ہو گئی ہے۔کھیدر نالہ، نالہ جیجال بازار اور آبشار نالہ کے مقامات پر شدید مٹی کے تودے گرنے سے سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔
ڈی پی او کوہستان نے تمام تھانوں اور چوکیوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے، اور سیاحوں و مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے۔





