سینئر صحافی سید ظاہر شاہ شیرازی نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ خیبرپختونخوا میں غیرقانونی یا اے سی سی کارڈ ہولڈرز افغان باشندوں کے خلاف مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وفاقی حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، مگر عملی طور پر اس پر مکمل عملدرآمد ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ دیگر صوبوں سے افغان باشندے بڑی تعداد میں خیبرپختونخوا کا رخ کر رہے ہیں۔
بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ظاہر شاہ شیرازی نے کہا کہ اس وقت بلوچستان بارڈر پر دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خزدار اور جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گرد حملوں میں بھارت اور اس کی پراکسیز کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ اسی تناظر میں ایران کے ساتھ بارڈر سیل کر دیا گیا ہے تاکہ دہشت گرد وہاں فرار نہ ہو سکیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور چین نے ایک مشترکہ پالیسی پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت پاکستان میں بدامنی پھیلانے والے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ ایکشن لیا جائے گا۔
افغان باشندوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے شیرازی نے کہا کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کو جو سہولیات حاصل ہیں، وہ افغانستان میں میسر نہیں۔ وہاں بچوں کی تعلیم اور خواتین کے حقوق کی صورتحال نہایت خراب ہے، اور عوام شدید خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : یومِ تکبیر: مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس کی عوام کو مبارکباد
سید ظاہر شاہ شیرازی نے زور دیا کہ حکومت کو مہاجرین کی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد، سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کو ترجیح دینی چاہیے۔





