فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےکہا ہے کہ کشمیر کا کوئی بھی سودا ممکن نہیں، ہم کبھی بھی کشمیر کو نہیں بھول سکتے،ہندوستان جان لے کہ پاکستان کشمیر کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، پرنسپلز اور سینئر اساتذہ کرام سے گفتگو کرتے ہوئے تعلیم، قومی سلامتی، کشمیر اور دہشت گردی کے موضوعات پر اہم خیالات کا اظہار کیا۔
سید عاصم منیر نے کہا کہ اساتذہ کرام پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں، اپنے والدین اور اساتذہ کرام کی وجہ سے ہو۔
فیلڈ مارشل نے اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اگلی نسلوں کی کردار سازی اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے اور یہ کہ آپ (اساتذہ) نے پاکستان کی کہانی اپنی اگلی نسلوں کو بتانی ہے۔
انہوں نے معرکہ حق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے پاکستان کی مدد کی،معرکہ حق اس بات کا ثبوت ہے کہ جب پوری قوم ایک آہنی دیوار بن جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اُسے گرا نہیں سکتی۔
کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کشمیر کا کوئی بھی سودا ممکن نہیں، ہم کبھی بھی کشمیر کو نہیں بھول سکتے،ہندوستان جان لے کہ پاکستان کشمیر کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور 24 کروڑ پاکستانیوں کے اس بنیادی حق پر آنچ نہیں آنے دیں گے، پاکستان، ہندوستان کی اجارہ داری کبھی قبول نہیں کرے گا۔
چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ ہندوستان نے کئی دہائیوں سے کشمیر کے مسئلے کو دبانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام ہو چکا ہے، اب یہ ممکن نہیں رہا ،دہشت گردی ہندوستان کا اندرونی مسئلہ ہے جس کی بنیادی وجہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر بڑھتا ہوا ظلم اور تعصب پسندی ہے، جبکہ کشمیر ایک عالمی سطح کا مسئلہ ہے۔
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں دہشت گرد فتنہ الہندوستان ہیں، ان کا بلوچوں سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے ریاست کی مضبوطی اور اداروں کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کو ایسی مضبوط ریاست بنانا ہے جس میں تمام ادارے قانون کے مطابق، آئین کے تحت، بغیر کسی سیاسی دباؤ، مالی اور ذاتی فائدے کے، عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کریں۔
چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ جو کوئی بھی ریاست کو کمزور بنانے کا بیانیہ بنانے کی کوشش کرے اُس کی نفی کریں۔
شرکاء کی جانب سے سوال و جواب کے سیشن میں اس جذبے کا اظہار کیا گیا کہ یہ جو محفوظ دھرتی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے۔شرکاء نے کہا کہ ہمیں پاکستان اور اپنی مسلح افواج پر فخر ہے اور ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔





