پشاور :پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ طہماس خان نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا قومی اور بین الاقوامی سطح پر اہم حیثیت رکھتا ہے، لیکن بدقسمتی سے اس صوبے نے ہمیشہ نقصان ہی اٹھایا ہے، اور جتنی امداد اور توجہ اس کو ملنی چاہیے تھی، وہ نہیں دی گئی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مزید تجربات کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے تحریک انصاف پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پارٹی میں نہ اتفاق ہے اور نہ تنظیم۔ پی ٹی آئی کے لیڈرز خود کو سب سے اعلیٰ سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے کارکن بھی تقسیم کا شکار ہیں۔ سیاسی جماعت ایک گھر کی مانند ہوتی ہے، جہاں ایک سربراہ کی موجودگی اتحاد اور نظم قائم رکھتی ہے، لیکن پی ٹی آئی میں اس کا فقدان ہے
شازیہ طہماس خان نے پی ٹی آئی کے 550 منصوبوں کے دعوے کو محض نعرہ بازی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 350 ڈیمز کا وعدہ کیا گیا، بلین ٹری سونامی کا حال سب کے سامنے ہے، اور بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے جو بلند و بانگ دعوے کیے گئے تھے، ان میں کتنی تبدیلی آئی؟ حقیقت میں عوام کو ریلیف کم اور پریشانی زیادہ ملی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں 35 ایم پی ایز نے بیانِ حلفی جمع کرایا، اسد قیصر پی ٹی آئی کو توڑنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں،عارف یوسفزئی
پی ٹی آئی کے احتجاجوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کبھی بھی پرامن نہیں رہے۔ “قومی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ہم نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے تعاون نہیں کیا،” ان کا کہنا تھا۔





