پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی عمر ایوب کے خلاف آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت دائر نااہلی کیس کی سماعت 4 جون 2025 کو الیکشن کمیشن میں ہوگی۔ اس سلسلے میں رکن اسمبلی کو باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ درخواست مسلم لیگ (ن) کے رہنما بابر نواز خان کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں عمر ایوب کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عمر ایوب عام انتخابات 2024 میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 18 (ہری پور) سے کامیاب ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 19 اپریل 2025 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے این اے 18 ہری پور میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے خلاف جاری حکمِ امتناع کو ختم کرتے ہوئے عمر ایوب کی دائر درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ہے اور کمیشن قانون کے مطابق فریقین کو سن کر فیصلہ کرے۔
قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جاری کیے گئے آٹھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت اس مرحلے پر کیس کے میرٹ پر کوئی رائے نہیں دے رہی، تاہم الیکشن کمیشن آزاد ہے کہ وہ درخواست پر خود کارروائی کرے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اگر کوئی فریق کمیشن کے فیصلے سے متاثر ہو تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتا ہے۔
عمر ایوب کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی عذرداری پر 60 دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، اور اس مدت کے گزر جانے کے بعد کمیشن کی کارروائی غیر قانونی تصور کی جاتی ہے۔ عمر ایوب نے الیکشن کمیشن کی 10 جولائی 2024 کی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کیا تھا۔
اب الیکشن کمیشن اس مقدمے کی باضابطہ سماعت کرے گا، جس میں عمر ایوب کی رکنیت خطرے میں پڑ سکتی ہے، اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں۔





