خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک چلانے سے پہلے اپنی عوامی حیثیت ثابت کریں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ سزاؤں سے عوامی نفرت بڑھے گی لیکن عوام ہمارے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم عوامی طاقت سے ان مخالفین کو سیاست سے باہر کریں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ نگران حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمان کے قریبی لوگ کرپشن میں ملوث رہے اور اب وہی لوگ احتساب کے عمل پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ کیا آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے منہ سے کرپشن کے خلاف بات زیب دیتی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ محض بیانات اور الزامات سے سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ عوام آج بھی خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں نگران دور حکومت میں کرپشن میں ملوث افراد سے 20 ارب روپے کی وصولی کی گئی ہے۔
صوبے کی سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف کوئی گروپ یا محاذ نہیں بن رہا اس قسم کی تمام خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں۔
لاہور بار کو دی گئی گرانٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ لاہور بار اسی ملک کا حصہ ہے، گرانٹ قانونی طریقے سے دی گئی ہے ہم نے ان کی طرح عوامی پیسہ لوٹ کر باہر نہیں بھیجا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 40 ارب روپے کے کرپشن سکینڈل کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، مولانا فضل الرحمان
خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت شفافیت اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور ہر ادارے کو اس کا جائز حق دیا جا رہا ہے۔





