بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ بجٹ مذاکرات کے دوران پیٹرول اور ڈیزل پر’’کاربن لیوی‘‘ عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق، اس لیوی سے سالانہ 25 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے، جو کہ ملک میں الیکٹریکل ٹرانسپورٹ کی سبسڈی پر خرچ کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ اگر حکومت کاربن لیوی نافذ نہیں کرتی، تو پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے تحت 25 ارب روپے کی رقم مختص کی جائے تاکہ الیکٹرک وہیکل (EV) خصوصاً موٹر سائیکل اور رکشہ کی خریداری کو فروغ دیا جا سکے۔
گاڑیوں کے انجن پر بھی لیوی عائد کرنے کی تجویز
عالمی مالیاتی ادارے نے تجویز پیش کی ہے کہ آئندہ بجٹ میں 850 سی سی اور اس سے زائد انجن کی گاڑیوں پر بھی کاربن لیوی لگائی جائے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں اندرونی دہن انجن کی حوصلہ شکنی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کاربن لیوی سے حاصل شدہ آمدن الیکٹریکل موٹر سائیکل، رکشہ اور مستقبل میں برقی گاڑیوں کی خریداری پر سبسڈی کی صورت میں عوام کو سہولت دینے پر خرچ کی جائے گی۔
پائیدار ٹرانسپورٹ کی جانب قدم؟
آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو آئندہ پانچ سالوں میں برقی ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے بلکہ عالمی مالیاتی تعاون کے تقاضے بھی پورے کیے جا سکیں۔ذرائع کے مطابق، پاکستانی حکام ان تجاویز پر غور کر رہے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ بجٹ کی منظوری کے وقت کیا جائے گا





