اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں معروف ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے مرکزی ملزم عمر حیات کی شناخت پریڈ کی درخواست منظور کرتے ہوئے اُسے چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
پولیس کی جانب سے ملزم کو ڈیوٹی مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم پراسیکیوٹر اور ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کی عدالتی کارروائی کے دوران غیر حاضری پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ نے ریمارکس دیے کہ’’پراسیکیوٹرز اکثر عدالت میں غیر حاضر رہتے ہیں، جو عدالتی عمل میں تاخیر اور رکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔‘‘
عدالت نے ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر کو فوری کمرہ عدالت میں طلب کیا، مگر بتایا گیا کہ وہ چھٹی پر ہیں۔ اس پر عدالت نے سماعت میں مختصر وقفہ دے دیا۔
وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے پولیس کی جانب سے دائر کردہ شناخت پریڈ کی درخواست منظور کر لی، اور ملزم عمر حیات کو شناختی عمل مکمل ہونے تک چودہ روز کے لیے جیل بھیجنے کا حکم جاری کیا۔
یاد رہے کہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا واقعہ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر زیر بحث رہا ہے، جس میں پولیس نے عمر حیات کو مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔





