سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شبلی فراز نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاسی مقبولیت میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب اپوزیشن کے ممکنہ گرینڈ الائنس میں ان کی شمولیت کی باتیں ہو رہی تھیں، تاہم اتحاد کا حصہ نہ بننے پر ان کی مقبولیت میں واضح کمی آئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل (جیوز نیوز)سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ اگر مولانا نے مزاحمتی سیاست سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ ان کا ذاتی سیاسی فیصلہ ہے، تاہم اس فیصلے سے ان کے سیاسی کردار اور اثر و رسوخ پر اثر پڑا ہے۔
شبلی فراز نے کہا کہ ’’ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کیلئے کام کریں، بلکہ ہم نے انہیں صرف آئین و قانون کی بالادستی کے مشترکہ مقصد کیلئے تعاون کی دعوت دی تھی۔‘‘
انہوں نے ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت ہمیں اپنے بنیادی قانونی حقوق بھی حاصل نہیں ہو رہے، ہماری اپیلیں سنی نہیں جا رہیں، ملک انصاف کے بغیر نہیں چل سکتا۔‘‘
شبلی فراز نے مزید کہا کہ ملک اس وقت شدید سیاسی اور آئینی بحران کا شکار ہے، اور اس سے نکلنے کا واحد راستہ قانون، آئین اور انصاف کی بالادستی ہے۔





