7ہزار میگا واٹ بجلی وافر ہے لوگ خریدنے کو تیار نہیں ، عمر ایوب کاحکومت پر تنقید

7ہزار میگا واٹ بجلی وافر ہے لوگ خریدنے کو تیار نہیں ، عمر ایوب کاحکومت پر تنقید

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت 7 ہزار میگاواٹ بجلی وافر موجود ہے، مگر عوام اسے خریدنے کے قابل نہیں رہی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ حکومت نے رواں سال 14 ہزار ارب روپے سے زائد کا ریونیو ظاہر کیا ہے، جبکہ گزشتہ برس یہ ریونیو 12 ہزار 970 ارب روپے تھا۔ تاہم، ان کے مطابق یہ گروتھ مصنوعی ہے اور زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔

’’یہ گروتھ ریٹ ایک معاشی غبارہ ہے‘‘
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے دکھائی گئی معاشی نمو حقیقت سے بعید ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت سمیت تمام بڑی فصلوں میں منفی گروتھ ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی معاشی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے۔

قوتِ خرید آدھی سے بھی کم رہ گئی
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ مارچ 2022 میں جو شخص 50 ہزار روپے کما رہا تھا، اس کی آمدنی کی اصل قدر اب صرف 20 ہزار 833 روپے کے برابر رہ گئی ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے خبردار کیا کہ رواں مالی سال کے دوران ریونیو شارٹ فال ایک ہزار ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔

غربت کی سطح خطرناک حد تک بلند
اپوزیشن لیڈر کے مطابق ملک میں غربت کی شرح 44.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور 11 کروڑ 40 لاکھ سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

عوام پس رہے ہیں، حکومت لیوی بڑھا رہی ہے
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس وقت فی لیٹر پیٹرول پر 80 روپے لیوی وصول کی جا رہی ہے، جو حکومت اگلے مرحلے میں 100 روپے تک لے جانے کی تیاری کر رہی ہے، حالانکہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت کم ہو چکی ہے، مگر پاکستان میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔

بجلی ہے، مگر خریدار نہیں
عمر ایوب نے حکومت پر بجلی کے شعبے میں بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ ملک میں 7 ہزار میگاواٹ بجلی وافر موجود ہے، مگر عوام اس قدر مہنگی بجلی خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال معیشت کی بدترین ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔

Scroll to Top