وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کا عندیہ دے دیا ہے، جس کے تحت بجلی کے بلوں میں اضافی سرچارج عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
نجی ٹی وی چینل (ایکسپریس) کے مطابق بجلی بلوں پر عائد موجودہ 10 فیصد سرچارج کی حد ختم کرنے اور نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے حکومت کو بلوں میں مزید اضافہ کرنے کا اختیار دینے پر غور جاری ہے۔ اس مجوزہ ترمیم کے تحت حکومت مخصوص مدت یا کیس ٹو کیس بنیاد پر بجلی پر سرچارج میں اضافہ کر سکے گی۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ فی یونٹ 3 روپے 23 پیسے تک اضافی سرچارج وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم اس پر تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اگر یہ تجویز منظور ہوتی ہے تو عام صارفین پر مہنگائی کا نیا دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ نیپرا ایکٹ میں مجوزہ ترمیم، بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جو نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتی اور تجارتی شعبے کے لیے بھی بڑا چیلنج ثابت ہو گی۔
حکومت کی جانب سے یہ اقدامات گردشی قرضے کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت 1275 ارب روپے کا قرض کمرشل بینکوں سے لینے کا ارادہ رکھتی ہے، جو آئندہ 6 سال کے دوران صارفین سے وصول کیے جانے والے سرچارج کے ذریعے واپس کیا جائے گا۔
توانائی ماہرین اور صارفین کے نمائندوں نے اس مجوزہ اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے نظام کو بہتر بنایا جائے۔





