اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے وفاقی بجٹ 2025-26 کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں چھ گنا اضافے پر شدید تنقید کی ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’’وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کا بجٹ بڑھا دیا گیا ہے، اشرافیہ کیلئے دودھ کی نہریں بہا دی گئی ہیں، جبکہ سرکاری ملازمین کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی کو 100 روپے سے تجاوز کر دیا ہے، جو کہ عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم ہے۔’’ہمارے دور میں پٹرولیم لیوی 20 روپے تھی، لیکن موجودہ حکومت نے اس میں ریکارڈ اضافہ کر کے عوامی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے‘‘
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ آدھے سے زیادہ بجٹ صرف سود کی ادائیگی میں چلا جائے گا، جبکہ عام ملازمین کی ضروریات اور فلاح و بہبود کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے وفاقی بجٹ کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بجٹ عوام دشمن ہے، جس میں نہ کوئی ریلیف ہے، نہ اصلاحات، اور نہ ہی کسی بہتری کی امید۔‘‘
عمر ایوب نے بجٹ کو ’’امیر پرور اور غریب شکن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام کے ساتھ مذاق کیا ہے، اور اس طرز عمل کے خلاف اپوزیشن ایوان کے اندر اور باہر بھرپور آواز بلند کرے گی۔





