خیبرپختونخوا کے پرائمری سکول اساتذہ ایک بار پھر اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور میں اساتذہ کی ایک بڑی احتجاجی ریلی سول کوارٹرز سے شروع ہوکر پریس کلب پہنچی جس میں پرائمری سکولوں کےاساتذہ کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔
احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ کئی سالوں سے اپنی اپ گریڈیشن اور ریگولرائزیشن کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں مگر حکومت نے تاحال ان مطالبات پر سنجیدگی نہیں دکھائی۔
مظاہرین کے مطابق صوبائی حکومت نے ان سے تحریری معاہدہ کرنے کے باوجود اپگریڈیشن سے انکار کر دیا ہے جو کہ ایک کھلی ناانصافی ہے۔
آل پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (ایپٹا) کے صدر عزیز اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق تحریک انصاف کی حکومت نے کابینہ سے اساتذہ کی اپگریڈیشن کی باقاعدہ منظوری لی تھی مگر بعد میں یوٹرن لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ مالی بجٹ میں اساتذہ کی اپگریڈیشن کو شامل کیا جائے۔ بصورت دیگر اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ صوبے بھر کے اسکولوں کو تالے لگانے پر مجبور ہوں گے۔
احتجاج میں شریک ایک اور استاد کا کہنا تھا کہ یہ وہی حکومت ہے جو وفاق کو قرضے دیتی ہے مگر اپنے اساتذہ کو سڑکوں پر چھوڑ دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:باجوڑ،کلاس فور ملازمین کا اساتذہ پر تشدد، دو زخمی
اساتذہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے جائز مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ پورے صوبے تک پھیلایا جائے گا۔





