یہ کیسا نظام ہے کہ شدید گرمی میں بجلی ناپید ہے؟ میاں افتخار حسین

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے موجودہ بجلی بحران، لوڈشیڈنگ اور حکومتی بے حسی پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ”یہ کیسا نظام ہے کہ شدید گرمی میں بجلی ناپید ہے؟ بجلی ہمارے وسائل سے پیدا ہوتی ہے، مگر اسی بجلی سے ہمیں ہی محروم رکھا جا رہا ہے۔ آخر کیوں؟ کیا خیبر پختونخوا کے عوام اس ملک کے شہری نہیں؟“

انہوں نے کہا کہ صوبے کے قدرتی وسائل پر اختیار دوسروں کو حاصل ہے، جبکہ تکلیف اور قربانی کا بوجھ خیبر پختونخوا کے عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔

”یہ کہاں کا انصاف ہے؟ غریب کے لیے نہ بجلی ہے، نہ کوئی ریلیف۔ جب وہ خود اپنی مدد کے لیے سولر سسٹم لگاتا ہے تو اس پر بھی ٹیکس لگا دیا جاتا ہے۔ کیا حکومت چاہتی ہے کہ عوام زندہ دفن ہو جائیں؟مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، اور اب بجلی کی غیر اعلانیہ بندش نے عوام کا جینا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ہر سال گرمی آتے ہی یہی لوڈشیڈنگ شروع ہو جاتی ہے، آخر حکومت نے اب تک کوئی منصوبہ بندی کیوں نہیں کی؟“

انہوں نے مذید کہا کہ ”امیر طبقہ اے سی میں بیٹھ کر مفت بجلی استعمال کرتا ہے، جبکہ غریب ہر سہولت سے محروم ہے، یہ دوہرا معیار اب نہیں چلے گا!“

میاں افتخار حسین نے حکومت سے فوری طور پر لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور بجلی کے منصفانہ نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ملک بھر میں ایک لاکھ 16 ہزار سے زائد نئے گیس کنکشنز دینے کا منصوبہ تیار

“ہم پبی نوشہرہ میں عوامی احتجاج کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ اگر حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو صوبے کے ہر ضلع اور ہر گاؤں میں احتجاج ہوگا۔ عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اب فیصلے کا وقت ہے!پختونخوا کے قدرتی وسائل پر پہلا حق پختون کا ہے۔بجلی ہماری، اختیار ہمارا۔ہم بھی اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، رعایا نہیں!

Scroll to Top