پشاور(اعجاز آفریدی) بجلی چوری کے خلاف کارروائی کے دوران پیسکو اور پولیس کے درمیان ہنگامی آرائی کا انکشا ف ہواہے ، پیسکو نے رحمان بابا پولیس اسٹیشن کے محرر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دے دی۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیاہے کہ رحمان بابا پولیس سٹیشن غیر قانونی بجلی کے کنکشن پر چل رہاہے جبکہ علاقے میں کنڈا کلچر کے خلاف آپریشن کے دوران رحمان باباپولیس سٹیشن کے محرر نے مبینہ طورپر پیسکو عملے کے ساتھ بدتمیزی کی ، ایک پیسکو اہلکار کو تھپڑ مارا، اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی۔
اس واقع کے خلاف سب ڈویژنل آفیسرپیسکو نے ایس ایچ او رحمان بابا کے نام درخواست ارسال کردی ہے جس کا متن ہے کہ پیسکو لینڈی ارباب سب ڈویژن کی ٹیم کنڈا کلچر کے خلاف آپریشن کر رہی تھی، آپریشن کے دوران متعدد غیرقانونی کنکشنز پکڑے گئے اور انہیں موقع پر ہی منقطع کیا گیا۔
ایس ایچ او رحمان بابا کو دی گئی تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جب ٹیم علاقے میں غیرقانونی بجلی کے کنکشن ختم کر رہی تھی تو رحمان بابا پولیس اسٹیشن کے محررشاہد خٹک موقع پر پہنچے اور عملے سے الجھ پڑے۔

خط کے مطابق محرر نے لائن سپریٹنڈنٹ اور دیگر عملے کے ساتھ بدتمیزی کی،رئیس خان نامی پیسکو اہلکار کو تھپڑ مارا اور انہیں دھمکیاں دیں کہ دوبارہ آئے تو جان سے مار دوں گا۔
تحریری شکایت میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ پیسکو کے عملے سے پی وی سیز بھی چھین لیں۔
پیسکو نے اپنی درخواست میں سرکاری کام میں مداخلت،سرکاری ملازم پر حملہ،دھمکیاں دینا اورسرکاری املاک چھیننے جیسے نکات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیاہے ، درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ رحمان بابا پولیس اسٹیشن خود بھی غیرقانونی بجلی کے کنکشن پر چل رہا ہےاور وہ دکانداروں کو بھی اسی فیڈر سے غیرقانونی بجلی فراہم کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یہ کیسا نظام ہے کہ شدید گرمی میں بجلی ناپید ہے؟ میاں افتخار حسین
اس الزام کی بنیاد پر پیسکو نے متعلقہ حکام سے تحقیقات اور کارروائی کی درخواست کی ہے۔





